Winston Churchill Sayings About Justice System and Today’s Pakistan

Abdul Shakoor June 19, 2018 321 No Comments

image

جنگ عظیم دوئم کا زمانہ تھا جرمن بمبار طیارے برطانیہ اگ اور لوھے کی بارش برسا تھے تھے۔برطانیہ کے گلیاں بازار سیر و سیاحت و تفریحی مقامات اگ اور خون میں نہا گئے تھے شہر خون سے لت پت تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اس وقت کے برطانیہ کے وزیر اعظم چرچل کے پاس اس کا ایک وزیر ایا اور بہت بھرای تھرای اور دکھی آواز میں بولا کہ ملک تباہ ھو چکا ھے انفراسٹرکچر تباہ ھو چکا ھے بچاو کی ھر تدبیر ناکام ھوتی جارھی ھے تو آگے سے چرچل نے جو تاریخی الفاظ ادا کئے وہ آج کے دور میں پاکستان کے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے مشعل راہ ھیں لیکن پاکستانی معاشرہ بغیر کسی جنگ اور ایٹم بم کے تباہ ھو چکا ھے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔چرچل نے آپنے وزیر کے اس سوال کے جواب میں سوال کر دیا کہ اگر ملک تباہ ھو گیا ھے جرمن طیارے آگ اور خون برسا رھے۔تو کیا ھوا کیا ھمارے جج بطریقہ احسن اپنے فرائض ادا کررھے ھیں وزیر نے جواب میں کہا جی عدالتیں اور جج اپنے فرائض بخوبی نبھا رھے ھیں تو چرچل نے کہا تو پھر ھمیں کوئ تباہ نھین کر سکتا آج وھی پھر سے چمک دمک رھا ھے جس کا جی ڈی پی پچاس مسلم ممالک سے بھی زیادہ ھے۔۔۔۔۔۔۔۔


دوسری طرف عرض وطن پاکستان ھے جو جنگوں سے تو بچ گیا پر انصاف کے عدم توازن انصاف کی خریدو فروخت بلکہ ججوں کی خریدوفروخت سے تباہ ھو گیا یہاں غریب ایک کلو آٹا نھیں خرید سکتا وھاں نواز شریف زرداری ملک چڑا چار سو کلو جج خرید لیتے ہیں وہ بھی سپریم کورٹ کے مطلب چار سو سابقہ موجودہ سارے جج خریدی بیٹھے۔غریب لے لے انصاف کی جگہ بابا جی جھرلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو نعمت آبی وسائل زرعی وسائل قدرتی وسائل معدنیات سے مالا مال ھر قسم پھل اجناس موسموں سے مالا مال ملک ان بکاو ججوں کی وجہ سے کنگال ھو گیا بڑا حال ھو گیا۔کون کرے گا کوئ ھے خو کرے گا سیسیلئن مافیا گاڈ فادر ججوں کا احتساب جواب کوئ نھیں کیوں انصاف کرنے والے خود بک چکے ہیں۔ججز آر سولڈ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *