عروج سے زوال تک شریف خاندان کا مختصر جائزہ

Abdul Shakoor June 10, 2018 259 No Comments

image

سیاسی شعبدہ بازی کا عبرت ناک انجام ھونے جا رھا ھے۔ھاوس آف شریف نے جو چار دہائیوں تک پاکستان میں سیاست یا حکمرانی کی ھے اس کا سارا محور زن زر زمین رھا ھے۔

چوتھی چیز ان کے پاس اور کچھ نھیں ھے نہ تھا۔کس طرح پاکستان کے سیاسی افق پہ چالیس سالوں تک دمکنے والا سورج قریب الغروب ھے۔

ساٹھ کی دھائی میں نواز شریف کا باپ اور تائے چاچے لاھور میں گھوڑوں کی نعل(کھریاں) بناتے تھے وہیں نواز شریف کے باپ کی ملاقات ھیرا منڈی کے کونسلر محمود عرف (مہودا) کنجر سے ھوئ۔وہ ھیرا منڈی سے خوب صورت لڑکیاں لاکر نواز شریف کے باپ کی خدمت میں پیش کرتا تھا۔نواز شریف کا باپ اور اس کے تایے چاچے بہت عیاش تھے میاں شریف نواز شریف کا باپ وہی لڑکیاں آگے لاٹ صاحب ڈپٹی کمشنر کو پیش کرکے اپنے ھر سیاہ کام کو سفید کروا لیتا تھا۔بھٹو کے دور میں ان کی تمام ناجائز جائیدادوں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا۔

کیسے میاں شریف اسی ھیرا منڈی کی نایئکاوں کا استعمال کرتے ھوئے جنرل ضیاء الحق کی ٹیم کو اپنے بس میں کرنے کے لئے استعمال کیا اور یی ہتھیار کافی کارگر ثابت ھوا۔پورے پنجاب میں سرکاری اراضی پہ قبضے بیواؤں اور غریبوں کی زمینوں پہ قبضے کرنا پھر لڑکیاں پیش کرکے ڈپٹی کمشنر سعید مہدی پٹواریوں تحصیلداروں کے باھمی تعاون سے سب ناجائز قبضوں کو قانونی شکل دینے کے بعد میاں شریف لاھور کا ایک ڈان بن چکا تھا۔

بھٹو کا ضیاءالحق کے ھاتھوں تختہ الٹنے کے بعد میاں شریف کی تو اور چاندی ھوگی جنرل غلام جیلانی گورنر پنجاب بننے کے بعد اس نام کے شریف کے خاندان کے وارے نیارے ھوگیے نواز شریف کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر خزانہ لگا دیا گیا۔ بات یہیں ختم نھیں نواز شریف جیسا ایک جاھل اور کاھل بندہ اسی صوبے پنجاب کا وزیر اعلی بھی بن گیا۔

ریی سہی کثر جب پہلی بار وزیر اعظم پاکستان بنا پھر نکال دی یہ پاکستان اور پاکستان کی عوام کی بدبختئ کا سیاہ دور رھا انیس سو ساٹھ میں جو لاھور میں گھوڑے کے نعل بنانے والے تھے ھر میدان میں عورتوں کو استعمال کرے آج دنیا کے پانچ براعظموں میں کھربوں کی جائیدادوں کے مالک بن گئے پھر اللہ کی طرف سے مکافات عمل کے خود کار نظام کا آغاز ہوگیا آج پاکستان کا سب بڑا مال دار خاندان اور مہاراجہ رنجیت سنگھ سے زیادہ لمبے عرصے تک پورے پنجاب کے سیاہ و سفید کا مالک خاندان آج اپنی عبرتناک انجام کی طرف جارھا ھے۔

وقت اس خاندان کے ھاتھوں سے ایسے نکل رھا ھے جیسی بند مٹھی سے خشک ریت جیسے جیسے یہ اپنی مٹھی کو زور سے بند کرتے ھیں اسی وقت ریت سرکنے کی رفتار تیز ھوجاتی ھے بے بسی کا یہ عالم اپنی شکست کو تسلیم کرنے اور اپنی غلطیوں کا اقرار کرنے کی بجائے ملک و قوم کو تباھی کے دھانے پر لے گئے ھیں۔

ویسے جنتی کتے کھانی اس ضمیر فروش خاندان کی ھوئ ھے اتنی کتے کی ھوجائے علاقہ چھوڑ جاتا ھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *