وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ھوکر۔ ھم خوار ھوگیے تارک قرآن ھوکر۔

Abdul Shakoor June 14, 2018 183 No Comments

image

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ھوکر۔

ھم خوار ھوگیے تارک قرآن ھوکر۔

 

السلام و علیکم عزیز ھم وطنوں میں مسمی چاچا عبدالشکور اجمل میری عمر تریپن برس ھے میں نے جب ھوش سنبھالا انیس سو انہتر یا انیس سو ستر ھوگا تو میرے گاوں کے ھر گھر میں صبح اور شام قرآن مجید کی تلاوت ھوتی تھی۔ھمارے گاوں میں چند گھر عیسائیوں کے تھے تیسری برادری ھمارے گاوں میں کوئ نھیں تھی۔عیسائ بھی اپنے ایک کچے مٹی کے بنے ھوئے گرجا گھر میں آزادانہ طور اتوار کے روز اور باقی دنوں میں اپنی عبادات و ریاضات کرتے تھے۔

گاوں میں تقریبا چھ سو گھر ھونگے جن میں سے دس یا بارہ گھر عیسائیوں کے تھے انیس ستر کی بات کررھا ھوں مسلمان گھر بھلے امیر کا تھا یا غریب کا تھا چودھری کا تھا یا کمی کا تھا ھر گھر میں صوم صلوات کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی تلاوت پابندی سے ھوتی تھی۔

ھر گھر میں ایک لکڑی کا تخت پوش ھوتا تھا جس کا سائز جائنماز جتنا ھوتا تھا جس کی اونچائی زمین سے ایک فٹ یا اس سے کچھ ذیادہ ھوتی تھی۔ ھر گھر کم از کم ایک کھجور یا دوسرے کسی سامان سے بنا ھوا ایک یا ایک سے زیادہ مصلے ضرور ھوتے تھے۔ شام کو عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد جو گھر کی بزرگ عورتیں ھوتی تھیں وہ قرآن مجید کھولتی تھیں اور کافی وقت تلاوت کلام پاک کرتی تھیں۔ یوں ھمارے گھروں پہ گاوں پہ شہروں پہ وطن پہ قرآن کا سایہ رہتا تھا۔

رزق رحمت صحت تعلیم سب کچھ معیاری تھا۔ دنیا میں خاص طور پر امریکہ انگلینڈ کینڈا یورپ میں جب ھمارے صدور و وزرائے اعظم عام ادمی جاتے تو ان کو بہت عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا پھر اچانک اس قوم کا زوال شروع ھوا۔

جو قوم قرآن کے سائے تلے رہتی تھی آہستہ اہستہ فلموں ناچ گانوں میں مگن ھونے لگی قرآن جس کے سائے تلے اللہ رحمت و برکات سے بہرور ھوتے تھے وہ الماریوں اور شوکیسوں کی زینت بن گیا۔پھر میں سوچا گرتا تھا میں پاکستانی عوام کی زبوں حالی کی وجہ کیا ھے تو مجھے میرے سوال کا میرے اندر سے ہی جواب مل جاتا کہ وہ قرآن مجید کا سایہ ھم نے سر سے ھٹا دیا۔

میڈیا ناچ گانے فلموں کو ھم اپنے اوپر مسلط کر لیا آج بھی اگر ھم نے اپنے بچاو کی تدبیر کرنی ھے تو ھم کو اللہ اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کی طرف سے بھیجی گئی کتاب کتاب الحکیم کی طرف راغب ھونا ھوگا ادروایز اس عوام کو تباھی سے کوئ نھیں بچا سکتا۔

صاحب فہم لوگ سمجھ چکے ھیں پاکستانی عوام زیر عذاب ھے زیر عتاب ھے۔غلطیوں کی گنجائش نہیں غلطیاں بہت ھیں وقت کم ھے۔ عوام پہ اس وقت ایک عذاب ھے کوئ سمجھے یا نہ سمجھے اور یہ عذاب دردناک شدت بھئ اختیار کر سکتا ھے۔

آپ کا زیادہ وقت نہ لیتے ھوئے ایک بات بتانا ضروری سمجھتا ھوں اس وقت پاکستان کے تمام ادارے تباہ ھیں۔بس ایک ادارہ بچا ھوا ھے اور فعال ھے اور ادارہ ھے دفاع کا جس کی کامیابی بھی اسی میں ھے کہ اپنے تمام خطرناک پروجیکٹ سرانجام دینے سے پہلے پورے قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور قرآن کے سائے تلے اپنی مہم جوئ کے لئے نکلتے ہیں اور کامیابی و کامرانی سے واپس آتے ہیں۔اللہ کا خاص کرم ھے جہاں میں رہتا ہوں جسے میں گھر کہتا ھوں یہاں بھی روزانہ قرآن مجید کی تلاوت شام کو بلا ناغہ ھوتی ھے۔

میں امید رکھوں گا میری اس تحریر کے اثر سے کوئ نی کوی ضرور قرآن مجید کو اپنے سر کا سایہ ضرور بنائے گا انشااللہ ۔اسی میں فلاح ھے اور اسی میں اصلاح ھے۔ روزانہ قرآن مجید کی ایک یا دو ایت ترجمے کے ساتھ پڑھنا اپنا شعار بنا لیجئے دیکھو پھر کیسے زندگیاں آسان سینے منور ھونگے۔پھر ھوگا سایہ خدائے ذوالجلال۔

 

میں تم کو بتاتا ھوں تقدیر امم کیا ھے۔

شمشیر وثنا اول طاوس و رباب آخر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *