کلثوم نواز شریف مریم نواز شریف بچپن سننے والی ڈایئن کی کہانی کا حقیقی ورژن ھے

Abdul Shakoor June 20, 2018 334 No Comments

image

کلثوم نواز کی ملک و قوم کے لئے خدمات کیا ھیں مجھے تو کلثوم نواز دیکھ کر وہ ڈایئن کی کہانی یاد آجاتی ھے جو میری دادی بچپن میں سنایا کرتیں تھیں۔ کسی گاوں میں ایک ڈایئن رہتی تھی کسی کو پتہ نھیں چلتا تھا اس پاس کے گاوں سے نومولود بچے طلسماتی طور پر غائب ھو جاتے تھے اور پھر ساری زندگی ان کا نام و نشان نہیں ملتا تھا۔

پورے علاقے میں خوف و ھراس پھیلا ھوا تھا کہ معصوم بچوں گمشدگی کے پیچھے محرکات کیا ھیں۔بڑے بزرگوں نے غورو فکر کرنا شروع کیا تو ایک کی فہم میں بات ائ کہ سارے علاقے میں جتنے گاوں ھیں ھر قبیلے کے بچے لاپتہ ھوئے۔لیکن ایک قبیلے کا بچہ پچھلے سو سالوں سے بھی اغوا ھونے کا کوئ واقعہ رونما نھیں۔

اس قبیلے کی سخت نگرانی شروع ھوگیئ مرد و زن کی کڑی پہرے داری کی گئ لیکن پھر بھی کو ثبوت نہ ملا دریں اثناء ایک اور معصوم بچہ غائب ھو گیا۔لیکن اس بار ایک چیز پہلے سے مخلتف کیا بچہ اسی گاوں سے غائب ھوا۔یہ اپنی نوعیت پہلا واقعہ تھا کہ بچہ اسی گاوں سے غائب ھوا جس کے ایک قبیلے کے لوگوں پہ شک تھا۔ایک سیانے بندے وقت نوٹ کیا کتنے عرصے کے بعد بچہ اغوا ھوتا ھے۔

پھر اس عرصے کے دوران جس گھر میں معصوم بچہ ھوتا تھا وھاں حفاظتی انتظامات سخت کردئے گئے ادھر اس ڈایئن کی خون کی تشنگی بڑھنے لگی گاوں میں ھر ایک کو اس پہ شک تھا کہ اس کے بچوں پہ انچ نھیں آتی باقی علاقے کے غائب ھو جاتے ہیں۔

دن گزر رھے تھے اس کی ٹشنگی جان لیوا ھوتی جارھی تھی ایک دن وہی ھوا جس کے سمجھدار لوگوں نے منصوبہ سازی کی لوگوں نے کیا دیکھا ایک رات ڈایئن اپنے گھر سے نکلتی ھے۔ اور برق رفتاری سے چلتی ھوئ ایک گھر میں گھسی گھر والے تو سو رھے تھے لیکس منصوبہ سازوں کی ٹیم اس کے تعاقب میں تھی۔

کسی لمحے کی تاخیر کئے بغیر ڈایئن ایک گھر میں گھسی ایک بچے کے منہ پہ رومال ڈال کر اسے بےھوش کرکے اٹھایا اور اسی برق رفتاری سے واپس ھوئ کہ کسی کو اس کے آنے جانے کی کان و کان خبر نہ ھوئ وہ بچہ لیکر اپنے گھر میں داخل ھوئ جس میں اس کے بچے اس کا بے چینی سے انتظار کررھے تھے۔

جیسے ڈایئن اپنے گھر میں داخل ھوئ جس میں پہریدار اپنے فرائض پہ معمور تھے وہ اس بچے کی جان جانے سے پہلے اس ڈایئن کو رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتے تھے۔ڈایئن کے بچے کافی دنوں سے بھوکے پیاسے تھے نہ انہوں نے کافی دنوں سے انسان کا خون پیا تھا نہ گوشت کھایا تھا بےصبری اور لاپرواہی کی وجہ سے ڈایئن کو یہ احساس ہی نہ ھوا کوئ اس کے تعاقب میں ھے۔

رات کی کافی تاریکی تھی جیسے ہی اس نے بچے کو لٹا کر چھری چلانا چاہی پہریدار نے بجلی کی سی پھرتی سے اس کو پکڑ لیا بچہ اس کی چنگل سے آزاد کروایا وہ رو رھی وہ بےنقاب ھو چکی تھی۔اب وہ سارے گاوں کے سامنے بلک بلک کر رو رھی تھی لیکن کوئ اس کو معاف کرنے کو تیار نہ تھا آخر کار اس کو عبرتناک سزا دی گیئ۔اور وہ پورے علاقے والوں نے سجدہ شکر ادا کیا اور ھنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔

یہ کہانی جو میرئ دادی 1970 میں سنایا کرتی وہ جب یاد آتی ھے اور مرہم نواز شریف کلثوم نواز شریف شمیم اختر شریف کا موجودہ ظالمانہ رویہ دیکھتا ھوں دادی اماں کی سنائ گئی کہانی ان پہ حقیقت میں فٹ ھوتی دکھای دیتی ھے پورے پاکستان کے بچے کھا گیئں یہ ان کے بچوں کو آج تک انچ بھئ نھیں ائ۔اب یہ ڈایئن خاندان بے نقاب ھو چکا ھے اب دیکھنا پہریدار ان کو ٹپکاتے ھیں یا ان کو بچاتے ہیں۔

میری دادی نے جو کہانی سنائ تھی اس میں گاوں کے پہرہ داروں نے ڈایئن کو خاندان سمیت اڑا دیا تھا اب دیکھنا آج کی حقیقت میں پہریدار ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے یہاں تو پہریدار ان کو کھلے عام انسانی خون اور گوشت سے لطف اندوز ھونے میں معاون ثابت ھورھے ھیں ۔کلثوم مریم سب ڈایئںنیں ھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *