پاکستان کے ججوں اور جنگل کے الو میں کیا مماثلت ھے۔ چاچا عبدالشکور اجمل کے قلم سے قلقاریاں۔ کتکتاریاں

Abdul Shakoor June 27, 2018 309 No Comments

image

اگر تم مر گئے تو ہمارے لیئے اتنے اچھے اور سچے فیصلے کون کرے گا۔یہ الفاظ تھے اس کوے کے جس نے مور پہ جھوٹا مقدمہ دائر کرکے الو کی کچہری میں مور سے اس کی بیوی جیت لی یا چھین لی۔

ایک دفعہ کا ذکر ھے بلکہ دو دفعہ کا ذکر ھےکسی جنگل میں سے ایک مسافر مور اور مورنی کا گزر ھوا۔جنگل بہت بڑا تھا جنگل سے گزرتے گزرتے شام ھوگی

مسافر مور اور مورنی جوڑے نے رات کو سفر کرنا مناسب نہ سمجھا۔انہوں نے دیکھا پاس ہی ایک برگد کا بہت بڑا اور قدیم درخت ھے اور ھزاروں کی تعداد
میں ھر رنگ اور نسل کے پرندے چہچہا رھے تھے۔مور اور مورنی نے اس درخت پہ رات بسر کرنے اور صبح یہیں سے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

مور اور مورنی نے رات اسی درخت پہ گزاری کچھ پرندوں نے تو بہت حق مہمان نوازی ادا کیا اور مہمان مور اور مورنی کو بہت اپنایئت کا احساس دیا۔رات ھنسی خوشی مہمان نوازی میں گزر گیئ۔

صبح کچھ پرندے الوداع ھو کے اپنے دانے دنکے کی تلاش میں نکل گئے۔مور اور مورنی بھی اپنا سفر کا سلسلہ جاری کرنے کے لئے باقی ماندہ پرندوں سے اجازت طلب کی اور سفر کے نکلنے ہی لگا تھا۔کوے نے شور مچانا شروع کردیا مور میری بیوی لے جا رھا ھے مدد مدد بچاو بچاو۔

سب پرندے حیرت زدہ تھے کہ یہ کو نے کیا چبل ماری ھے۔پر کوا بضد تھا یہ میری بیوی ھے یہ میری بیوی ھے کوا مور کے ساتھ مورنی کو جانے نھیں دے رھا تھا۔مور کو مجبورن اپنا سفر موخر کرنا پڑا مور بھی حیران تھا مورنی بھی حیران و پریشان تھی۔

مور نے کوے کو بہت سمجھانے بجھانے کی کوشش کی لیکن کوا حنیفے پاوڈری کی طرح بضد تھا کہ یہ کوے ہی کی بیوی ھے سب نے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کی جسامت شکل و صورت کچھ بھی تو تیرے ساتھ نھیں ملتا مگر کوے کی وہی ضد کی ڈھاک کے تین پات۔

مور مجبور ھوگیا ایک پرندے نے پولا اس درخت کی چوٹی پر ایک بڈھا الو رہتا جو اس درخت سے بھی پرانا ھے سیانا ھے چلو اس سے فیصلہ کروا لیتا ھیں۔

مور اور کوا دونوں راضی ھوگئے مقدمہ الو کچہری میں پیش ھوا۔اور الف سے لیکر یے تک پوری سرگزشت الو کے سامنے پیش کی گئی۔

الو نے سب کچھ سننے کے بعد دل میں سوچا یہ مور تو ہمارے درخت تو کیا ھمارے علاقے کا بھی نھیں۔اور کوا تو اس کا پرانا دوست بھی نزدیکی گاوں سے بچوں سے چیزیں پنیر مٹھایئان چھین کر لا کر اسے کھلاتا ھے۔

مور نے تو پتہ نھیں دوبارہ یہاں آنا بھی ھے نھیں اور مور تو مورنی ساتھ لے جائے گا الو کو کیا فائدہ اگر مورنی کوے کو مل جائے اسی درخت پی رھے گی۔اور کبھی کبھی بھونڈی کرنے کا موقع بھی مل سکتا ھے۔لہذا الو نے فیصلہ محفوظ کر لیا کہ دو گھنٹے کے بعد فیصلہ سنایا جائے گا۔

مور اور مورنی دونوں حق اور سچ کے فیصلے کے لئے دعایئں کررھے تھے۔دریں اثنا کوے نے ایک اڑان بھری اور نزدیکی گاوں میں گیا کسی بچے سے پنیر لسی سے کسی سے ٹافی کسی سے مچھی کوئ چاکلیٹ چھین کر واپس آگیا۔

جیسے ہی درخت پہ اکر اس کی اڑانے مکمل ھوئ تو الو کو چاکلیٹ پنیر ٹافیوں کی مہک محسوس ھونے لگی۔الو کو معلوم ھو گیا تھا کہ اس کا دوست اس کی پسندیدہ مٹھایئاں ٹافیاں مچھیاں چاکلیٹ لے آیا ھے۔

ابھی فیصلے کی گھڑی دور تھی لیکن الو سے رھا نھیں جا رھا تھا۔اس نے عدالت پاون گھنٹہ پہلے ہی لگا کر فیصلہ کوے کے حق میں سنا دیا مور مجبور و بے بس رو رھا تھا اس کی جیون ساتھی اس کے بچوں کی ماں اس سے چھن گیئ تھی مورنی بھی رو رھی تھی دونوں کی جیسے دنیا ہی اجڑ گیئ ھو۔

دوسری طرف کوا مور سے بھی دھاڑیں مار مار کر رو رھا تھا۔الو نے کوے کو پوچھا سور دیا پترا مور مورنی رو رھے ھیں سمجھ میں ارھا ھے کہ ان کئ ظلم زیادتی ناانصافی ھوئ ھے ۔تو کیوں رو رھا تجھے تو میں نے خوبصورت مورنی کا شوہر بنا دیا ھے۔کوے نے معلوم الو کو کیا جواب دیا۔

کوا بولا الو دیا پٹھیا میں اس لئے رو رھا ھوں اگر تو مرگیا تو میرے حق میں ایسے فیصلے کون کرے گا۔

یہی عرض وطن کا حال ھے ھر شاخ پہ ایک ایک الو نھیں کیئ کیئ الو کے پٹھے بیٹھے ہیں انجام گلستان کیا ھوگا۔

چاچا عبدالشکور اجمل کی سبق اموز تحریر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *