میں تیرا منہ توڑ دونگی تمھاری جرات کیسی ھوئ میرئ اوپر ھاتھ اٹھانے کی

Abdul Shakoor June 18, 2018 463 No Comments

image

میں تمھارا منہ توڑ دونگی تمھاری جرات کیسی ھوئ میرئ اوپر ھاتھ اٹھانے کی۔یہ اس غیرت مند شیرنی قوم کی بیٹی کے الفاظ ھیں جو اس درندہ صفت معاشرے میں اپنے غریب گھر کی کفالت کرنے کے لئے اکیلی گھر سے نکلی تھی۔مہوش اپنے بوڑھی ماں بیمار باپ اور 4 بھای بہنوں کا واحد سہارا تھی۔

 

جس نے اپنے گھر کی کفالت کرنے کے لئے کوہستان بس سروس فیصل آباد میں بس ھوسٹس کی نوکری کرلی اس بس سروس کا سیکیورٹی گارڈ اس کو حراساں کرتا ھے بس میں چڑھ کر اس کا ھاتھ پکڑتا ھے مہوش کے مزاحمت کرنے پر بھری بس میں مہوش کو تھپڑ بھی مار دیتا ھے بس صرف مہوش اور بس کا سیکیورٹی گارڈ ہی نھیں تھے بلکہ 45 کے قریب سواریوں سمیت بس کا تین یا چار افراد پہ مشتمل عملہ بھی تھا۔پر سارے کے سارے بے حسی و بیغیرتی کے سائمبول بنے رھے۔

 

کیسے وہ مہوش کو ٹرمینل پہ آنے کی دھمکیاں دے رھا تھا کسی کی غیرت نے جوش نہ مارا کہ اس کا منہ توڑ دیتے کیونہ وہ تو خود منہ توڑنے کے لئے رکھا تھا مطلب سیکیورتی گارڈ رکھا تھا بس سواریوں کا محافظ جب محافظ ہی مجرم بن جائے تو حفاظت کون کرے۔

 

ایسے چاچا لو سیالکوٹ کی وہ عیسائ بیٹی یاد اگئ جو اپنے اپنے بوڑھے والدین بھای بہنوں کی کفالت کرنے گھر سے تو اس نے ایک بیوٹی پارلر پہ نوکری کر لی۔وہیں رستے مین اسے ایک مسلمان لڑکا ملتا تھا اسے پسند کرنے لگا اس لڑکی کے بھای کے ساتھ دوستی لگائ۔شادی کرنا چاہتا تھا بضد تھا کہ لڑکی اسلام قبول کرے لڑکی نے شادی کرنے سے انکار کر دیا اس کو زندہ جلادیا۔

 

ایسے ہی اس کوہستان بس سروس کے سیکیورٹی گارڈ نے کیا جب مہوش نے مزاحمت کی تو سرعام شوٹ کر دیا جب مہوش گولی لگنے کے بعد ٹرمینل کی آہنی سیڑھیوں پہ تڑپ رہی تھی تو میں چاچا عبدالشکور اجمل یہ برداشت نہ کرسکا کاش میرے ھاتھ میں اختیار ھوتا تو اس سیکورٹی گارڈ کو وہیں پھڑکا دیتا۔

 

اس سے زیادہ دکھ کرب اور شرم کی بات یہ ھے کہ مہوش کے قتل سے کسی ٹی وی چینل میڈیا اہنکرز اینکرنیوں سیاست دانوں مولبیوں اور پیروں نے کہرام نھین مچایا یہ ھمارے معاشرے کا دوھرا نھیں تیہرا معیار ھے میڈیا پہ پیسہ لگاو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کق سچ بناو۔

 

یہ ایک مہوش نھیں کتنی مہوشیں روز اسی طرح زندہ درگور ھورھی کسی کی غیرت جوش نھیں مارتی کیونکہ یہ بے حس اور بیغرت معاشرہ ھے۔اور یہ زیر عذاب اور زیر عتاب معاشرہ ھے اور کب عذاب شدت اختیار کر جائے کوئ پتہ نھیں چلنا اور پتہ ان کو چلنا بھی نھیں جاگو مردو جاگو زندہ لاشو۔ بابا سوموٹو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *