بابا رحمتا کو چاچا عبدالشکور اجمل کا مشورہ بابا جی چندہ نہ مانگو چاچا عبدالشکور اجمل کی مانو

Abdul Shakoor June 14, 2018 336 No Comments

image

السلام و علیکم پاکستان کے قرضے دیکھ کے دل کرتا ھے چندہ مانگ کر ملک کے قرضے اتاروں بقول بابا رحمتا جناب بابا جی آپ تو اسلامی جمہوریہ ایٹمی طاقت پاکستان کے سب سے معتبر عدالت عظمی کے چیف جسٹس ھو کوئ ایرا وغیرہ ولد نتھو یا خیرا نھیں ھو آپ چندہ مانگتے پھرو ملک کا قرض اتارنے کےلئے آپ کو یا کسی اور کو تو شرم آئے یا نہ آئے ایک غیرت مند پاکستانی ھونے کے ناطے مجھے اور دیگر غیرت مند پاکستانیوں کے لئے بہت شرم کا باعث ھوگا اللہ نہ کرے آپ کو چندہ مانگنا پڑے چندہ مانگیں ملک و قوم کے دشمن جناب۔

ویسے بابا جی ایک مشورہ دوں اگر دل دماغ میں بیٹھ جائے تو جناب بابا رحمتا صاحب آپ کو مشورہ دینا ویسے تو سورج کو لو دکھانے کے مترادف ھے۔ اگر طبیعت پہ بال نہ آئے یا جناب کو ناگوار نہ گزرے تو مفت مشورہ ھے آج جہاں ملک ایک سو پینتیس ارب ڈالر کا مقروض ھے اور ھر پیدا ھونے والا بچہ ایک لاکھ پینتیس ھزار کا مقروض ھے۔

میرے مشورے سے یہ ایک لاکھ پینتیس ھزار کا مقروض ھر شہری کم از کم دو دو ملین پاکستانی روپے کا مالک بن جائے گا اپنے قرضے اتارنے کے بعد اور آج جو ڈالر ایک سو تیس کا ھونے جارھا ھے یہی ڈالر چالیس روپے کا نہ ھوجائے تو جو دل کرے چاچا عبدالشکور اجمل کو سزا دے دینا وہ بھی سرعام ۔

مشورہ مفت ھے اس لئے اس کی کوئ قدر نھیں کرے گا جو بھی ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں بابا رحمتا صاحب مشورہ یہ ھے کہ نواز شریف مریم زرداری ملک ریاض اور دیگر تمام چوروں سے ملک و قوم کا لوٹا ھوا پیسہ نکلوا لو تو اگر میرے اعداد و شمار کے مطابق ھر پاکستانی کو قرضہ ادا کرنے کے بعد انشاللہ سب کو دو دو ملین روپیہ نہ نہ ملے تو جو چاچا عبدالشکور اجمل کی سزا آپ تجویز کرو مجھے منظور ھوگی۔ بشرطیکہ سارا پیسہ نکلوایا جائے ڈنڈی یا ڈنڈا نہ مارا جائے۔

بابا رحمتا صاحب پھر نہ چندہ مانگنا پڑے گا نہ چندہ مانگنے کا لفظ استعمال کرنا پڑے گا۔اور میرے عظیم ملک کے عظیم چیف جسٹس کو کبھی بھی یی ڈرامہ نھیں کرنا پڑے گا کہ ملک کا قرضہ دیکھ کر دل کرتا ھے کہ چندہ مانگ کر قرضے اتاروں۔بابا رحمتا صاحب سمجھ ائ کہ اپنے اسٹایئل میں سمجھاوں۔بابا جی اک مان لو ساڈی تے میں توھاڈیاں سب مان لونگا چاچا عبدالشکور اجمل بقلم خود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *