ایک بہت ہی خوبصورت چشم کشا تحریر جس سے اللہ کرے سب فائدہ مند ھوں۔

Abdul Shakoor June 30, 2018 119 No Comments

image

💥کافر و مشرک
💥کے
💥سینگ
💥نہیں
💥ہوتے.

(یہ لوگ اپنی عادات سے پہچانے جاتے ہیں)

الحمد للہ، الحمد للہ
صد شکر کہ مصور کائنات نے شکل و صورت کے اعتبار سے تمام انسان ایک جیسے بنائے ہیں.

کسی کافر کی پیشانی پر “کافر” نہیں لکھا.

کسی مشرک کی پیشانی پر “مشرک” نہیں لکھا.

کسی کافر و مشرک کے سینگ بھی نہیں ہوتے.

⏪ ان کے سر پر سینگ ہوتے تو اہل ایمان کی زندگی اجیرن ہو جاتی.
اس ڈر سے کہ کہیں کوئی سینگوں والا پیٹ نہ پھاڑ ڈالے اہل ایمان گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتے.

روزی روٹی کے لئے مزدوری کرنا،
ڈیوٹی کے اوقات میں دفتر جانا،
بیماری کی حالت میں ڈاکٹر کے پاس جانا. تعلیم کے لئے سکول اور کالج کا رخ کرنا،پنجگانہ صلوٰۃ کے لئے مسجد جانا،
الغرض خوف و دہشت کی فضا میں کسی کا گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھنا بھی محال ہو جاتا.

کافر و مشرک کے سینگ نہ ہونا اللہ تعالٰی کا اتنا عظیم احسان ہے کہ اس پر اہل ایمان جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے.

ویسے قرآن میں کہیں اشارۃ اور کہیں صراحتاً بتا دیا گیا ہے کہ یہ جانور سب مخلوق سے ابتر ہوتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے

⏪اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الۡبُکۡمُ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ*

(سورۃ الانفال آیۃ 22)

“اللہ کے نزدیک سب جانوروں سے برے یہ بہرے گونگے ( کافر و مشرک) ہیں جو عقل نہیں رکھتے”

⏪اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ*

(الانفال 55)

“بے شک اللہ کے نزدیک سب جانوروں سے برے یہ کافر ہیں پس یہ ایمان قبول نہیں کریں گے”

⏪ وَ لَقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۫ ۖ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ*

(سورۃ الاعراف آیۃ 179)

“ہم نے جن و انس کی اکثریت کو جھنم کے لئے پیدا کیا ہے ، ان کے دل ہیں مگر ان سے سوچتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں،یہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گذرے، یہ بے شعور لوگ ہیں”

⏪…… وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَتَمَتَّعُوۡنَ وَ یَاۡکُلُوۡنَ کَمَا تَاۡکُلُ الۡاَنۡعَامُ وَ النَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ*

(سورۃ محمد آیۃ 12)

“…. اور جو کافر ہیں وہ (دنیا کے) فائدے اٹھاتے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح جانور ،اور ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے”

⏪ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ…..

(سورۃ التوبۃ آیۃ 28)

” اے ایمان والو! بات یہ ہے کہ مشرکین نجس ہیں… “

اوپر جو آیات نقل کی گئی ہیں ان کا لہجہ تلخ ہے حالانکہ اسی قرآن میں ارشاد ہے،

⏪ وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا*

(سورۃ بنی اسرائیل آیۃ 70)

“ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور بحر و بر میں سواری دی اور کھانے کے لئے بہترین رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوق پر اس کو فضیلت عطا کی”

اشرف المخلوقات کا لقب پانے والے انسان کو جانور سے تشبیہ دینا بظاہر عجیب سا لگتا ہے لیکن کیا کیا جائے کہ یہ بات بھی اسی قرآن میں بتائی گئی ہے،

ارشاد ہے،

⏪ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ *

“البتہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا”

⏪ ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ*
“پھر ہم نے اس کو سب نیچوں سے نیچا کر دیا”

⏪اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ *

“مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان لوگوں کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے”

(سورۃ التین آیات 4 تا 6)

مشرکین عرب اللہ کو مانتے تھے،

جیسا کہ ارشاد ہے

⏪وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ۚ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ*

(سورۃ العنکبوت آیۃ61)

“اے نبی اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا؟ تو وہ ضرور بالضرور کہیں گے کہ اللہ نے(اس اقرار کے باوجود) یہ کہاں سے پھرائے جا رہے ہیں”

⏪وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ*

(سورۃ الزخرف آیۃ 87)

” اے نبی آپ ان سے پوچھیں کہ بتاؤ تم کو کس نے پیدا کیا؟ تو کہیں گے اللہ نے، پھر یہ کہاں سے پھرائے جاتے ہیں”

قرآن کے اولین مخاطب اللہ کے وجود کے انکاری نہیں تھے بلکہ اللہ کو کائنات کا مالک اور اپنا خالق بھی مانتے تھے.
اس کے باوجود اللہ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے،

⏪قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ*
⏪لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ*
ج
(سورۃ الکافرون آیۃ 1،2)

“کہہ دیجئے اے کافرو! جن ہستیوں کی تم بندگی کرتے ہو ،میں ان کی بندگی نہیں کرتا”

⏪ القصہ جو لوگ اللہ کی ذات میں اس کی صفات میں اس کے حقوق میں اس کے اختیارات میں کسی بھی طرح دوسری ہستیوں کو شریک مانتے ہیں ان کو اللہ نے اپنی کتاب میں کہیں کافر کہیں مشرک، کہیں کالانعام (جانوروں جیسے) اور کہیں شر الدواب (سب جانوروں سے ابتر) کہا ہے.

⏪یہ القاب اللہ تعالٰی نے ان کے اپنے افعال کی بنا پران کے لئے تجویز فرمائے ہیں.

⏪اس کا کسی کو برا نہیں. منانا چاہئے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *