نواز شریف اور شاھد خاقان سنی لیون کے نام چاچا عبدالشکور اجمل کے فیس بک ممبر کا ارسال کردہ چھترول فل کالم۔

Abdul Shakoor June 27, 2018 168 No Comments

image

شاہد خاقان عباسی اور نوازشریف کے غم میں دن رات مرے جانے والوں کو بس اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ یہ دونوں وہی ولدالحرام ہیں جنہوں نے اینگرو کے ساتھ ایل این جی ٹرمینل کرائے پر ہائیر کرنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت ۳۱ مارچ ۲۰۱۵ کے بعد حکومت پاکستان نے اینگرو کو ہر روز کے حساب سے پونے تین لاکھ ڈالرز اس ٹرمینل کے کرائے کی مد میں ادا کرنے شروع کردیئے۔

پاکستان نے قطر سے ایل این جی ڈیل اگلے سال فروری ۲۰۱٦ میں سائن کی اور پہلی شپمنٹ مارچ کے آخر میں پاکستان پہنچی۔

یوں حکومت پاکستان اینگرو کے مالکان کو ایک سال تک یومیہ پونے تین لاکھ ڈالرز بغیر کسی پروسیسنگ کے ہی ادا کرتی رہی جو کہ سالانہ تقریباً ۱۰۰ ملین ڈالرز بنا، جبکہ اس ٹرمینل کو تعمیر کرنے کی کیپٹل کاسٹ ۱۲۵ ملین ڈالرز تھی۔

یوں اینگرو نے اپنے ٹرمینل کی ۸۰ فیصد لاگت کرائے کی مد میں پہلے سال ہی وصول کرلی جبکہ ایل این جی کی شپمنٹ ایک سال بعد شروع ہوئی۔

سو ملین ڈالرز۔ ۔ ۔ ۔ ایک ایسا ملک کہ جس پر پچھلے پانچ سال میں ۳۵ بلین ڈالرز کا قرض لاد دیا گیا،
سو ملین ڈالرز ۔ ۔ ۔ ایک ایسا ملک کہ جہاں پسماندہ علاقوں میں بچے غذا کی کمی سے ہلاک ہوتے رہے،
سو ملین ڈالرز ۔ ۔ ۔ ایک ایسا ملک کہ جہاں والدین اپنے بچوں کی فرمائش پوری نہ کرنے پر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوتے رہے ۔ ۔ ۔

سو ملین ڈالرز ۔ ۔ ۔ ایک ایسا ملک کہ جس کی امپورٹس اور ایکسپورٹس میں خطرناک حد تک فاصلہ آچکا، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے جارہے لیکن سو ملین ڈالرز سالانہ کے حساب سے اپنے کاروباری پارٹنرز کو ادا کئے جاتے رہے۔

یہ سو ملین ڈالرز اوورسیز پاکستانیوں کی کمائی سے ادا ہوئے، یہ میرے اور آپ کے ٹیکسوں سے ادا ہوئے، یہ اس ملک کے نام پر آئی ایم ایف جیسے یہودی اداروں سے قرضے لے کر ادا ہوئے۔

یہ وہی شاہد خاقان عباسی ہے، یہ وہی نوازشریف ہے، ان دونوں کی ملی بھگت سے یہ عجب کرپشن کی گجب کہانی لکھی گئی۔

آج اگر شاہد خاقان عباسی تاحیات نااہل قرار پایا اور کسی پٹواری کو اس پر تکلیف ہورہی ہے تو اس پٹواری کو اچھی طرح پہچان لیں۔ ذہنی غلام ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ انہی لوگوں کی وجہ سے ہمارا ملک تباہی کے دہانے پر آن پہنچا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *